حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرحوم آیت اللہ مجتہدی تہرانیؒ نے ایک درس اخلاق میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لے اور یہ دیکھے کہ اس نے دن بھر میں کون سے نیک اور کون سے برے کام انجام دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر انسان اپنے محاسبے میں یہ دیکھے کہ اس سے نیکی ہوئی ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے، اور اگر کوئی گناہ یا کوتاہی ہوئی ہے تو فوراً استغفار کرے اور آئندہ اس سے بچنے کا عزم کرے۔
آیت اللہ مجتہدی تہرانیؒ نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی اس روایت کا بھی ذکر کیا کہ "جو شخص ہر روز اپنے اعمال کا محاسبہ نہیں کرتا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔" انہوں نے اس روایت کو انسان کی اخلاقی اور روحانی تربیت کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔
انہوں نے روزانہ کے محاسبے کی مثال تاجروں سے دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح بازار کے لوگ ہر شام اپنے کاروبار کا حساب لگاتے ہیں کہ آج کتنا مال آیا، کتنا فروخت ہوا اور کتنا نفع یا نقصان ہوا، اسی طرح مؤمن کو بھی اپنے اعمال کا روزانہ حساب رکھنا چاہیے۔
آیت اللہ مجتہدی تہرانیؒ نے تجویز دی کہ انسان اپنے لیے ایک نوٹ بک یا رجسٹر مقرر کرے اور رات کو اس میں لکھے کہ دن بھر اس نے کیا کیا۔ اگر خدانخواستہ کسی نامحرم پر نظر پڑی، کسی کی غیبت کی، حرام چیز سنی یا کوئی اور گناہ سرزد ہوا تو اسے بھی نوٹ کرے، تاکہ اپنی کمزوریوں سے آگاہ ہو سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب انسان اپنے اعمال کا باقاعدہ جائزہ لیتا ہے تو اس کے لیے اصلاحِ نفس آسان ہو جاتی ہے۔ اگر نیک اعمال زیادہ ہوں تو اللہ کا شکر ادا کرے اور اگر برائیاں سامنے آئیں تو سچے دل سے توبہ و استغفار کرے۔ یہی روزانہ کا محاسبہ انسان کی روحانی ترقی اور اخلاقی اصلاح کا مؤثر ذریعہ ہے۔









آپ کا تبصرہ